کیا کمانڈو ایسے ہوتے ہیں؟
اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
MIAN ASHRAF ASMI ADVOCATE IS A PRACTICING LAWYER
موجودہ حالات کے تناظر میں جس طرح سے جنرل مشرف اپنی جان کی حفاظت کے لیے ہسپتال کو ڈھال بنائے ہوئے ہیں۔ یقیناًً اُس جیسے نام نہاد کمانڈو کو یہ زیب نہیں دیتا۔ سیاستدانوں کو ہر طرح کے طعنے دئیے جاتے ہیں اور اُنھیں بُزدل گردانا جاتا ہے لیکن ایک کمانڈو اور سابق آمر کی جانب سے یہ بات عیاں ہی ہوئی ہے کہ وہ کمانڈو صرف اپنی یونیفارم کے بل بوتے پر تھا ورنہ شجاعت و بہادری والا قصہ صرف کہانی ہی ہے جس طرح سے مُشرف نے نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کیا اور غداری کے مقدمے میں پھنسا کر پھانسی پر لٹکانے کی کوشش کی اور پھر نواز شریف کو جلاوطن ہونا پڑا۔ اب جبکہ مشرف اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے گھبرا رہا ہے اور گھبراہٹ میں اُس کو کئی بیماریوں نے آں لیا ہے جن میں کندھے کا درد، بلڈ پریشر،دردِ دل وغیرہ شامل ہیں ویسے تو مشرف صاحب جیسے کمانڈو کے لیے علاج لیے رقص و سرود میں ڈوبی راتیں ہی پیام صحت ثابت ہوسکتی ہیں اِدھر اب پاکستان میں اُن کے لیے ایسا کرنا شائد ممکن نہیں رہا اِس لیے وہ امریکہ یاترا کے لیے بے چین ہیں ۔ ہمارئے معاشرئے میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ فوجی آمر بھی لمبے ہاتھ مارتے رہے ہیں جس کا ثبوت جنابِ مشرف کی دولت اور اُنکا رہن سہن غمازی کرتا ہے۔تیسری دنیا کے ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے حکمران قانونی طور پر حاکم بنیں یا ڈاکہ مار کر وہ بادشاہت کے مرتبے کے حامل قرار پاتے ہیں اور اُن کو اُن کے درباری اُنکو ایسے ایسے مشوروں سے نوازتے ہیں کہ وہ پھر اِسی بادشاہت کے اسیر بن جاتے ہیں۔ مشرف صاحب کے معاملے میں بھی ایسا ہے کہ وہ بلاشرکتِ غیرے ایک عشرئے تک اس ملک کی قسمت کے فیصلے امریکہ کی جھولی میں بیٹھ کر کرتے رہے ہیں اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر سب سے پہلے اپنے ضمیر کو ملامتی بنائے رکھا ہے اب مشرف صاحب کو اقتدار کی لت ایسی پڑی ہے جسے ماہی بے آب ہوتی ہے وہ بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔پرویز الہی جیسے پُرانے سیاست دان نے مشرف صاحب جیسے آمر کو وردی میں دس مرتبہ منتخب کروانے کے نعرئے لگا لگا کر اُن کو اِیسے فریبِ نظرمیں مبتلا کیا ہوا ہے کہ وہ اب بھی خود کو پاکستانی عوام کا مقبول ترین رہنماء تصور فرماتے ہیں اور حکمرانی کی عادت ایسی پڑی ہے کہ کم بخت چین نہیں لینے دے رہی